بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مسافر کے لیے جمعہ کی نماز کے لیے شہر جانا افضل ہے یا نہیں؟


سوال

مسافر کے لیے جمعہ کے دن  گاؤں میں ظہر پڑھنا افضل ہے یا  شہر جاکر جمع ادا کرنا افضل ہے یا دونوں برابر ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایسا گاؤں جس میں ضروریات زندگی سے متعلق تمام سہولیات نہ ہوں وہاں رہنے والے باسیوں پر جمعہ واجب نہیں ہوتا، اسی طرح سے مسافر پر بھی جمعہ واجب نہیں ہوتا، جیسا کہ "بدائع الصنائع" میں ہے:

"أَمَّا الَّذِي يَرْجِعُ إلَى الْمُصَلِّي فَسِتَّةٌ: الْعَقْلُ، وَالْبُلُوغُ، وَالْحُرِّيَّةُ وَالذُّكُورَةُ، وَالْإِقَامَةُ، وَصِحَّةُ الْبَدَنِ؛ فَلَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى الْمَجَانِينَ وَالصِّبْيَانِ وَالْعَبِيدِ إلَّا بِإِذْنِ مَوَالِيهمْ، وَالْمُسَافِرِينَ وَالزَّمْنَى، وَالْمَرْضَى ... وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ لَا جُمُعَةَ عَلَى هَؤُلَاءِ مَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ إلَّامُسَافِرًا أَوْ مَمْلُوكًا أَوْ صَبِيًّا أَوْ امْرَأَةً أَوْ مَرِيضًا، فَمَنْ اسْتَغْنَى عَنْهَا بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ وَاَللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ» ... وَأَمَّا الشَّرَائِطُ الَّتِي تَرْجِعُ إلَى غَيْرِ الْمُصَلِّي فَخَمْسَةٌ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَاتِ: الْمِصْرُ الْجَامِعُ، وَالسُّلْطَانُ، وَالْخُطْبَةُ، وَالْجَمَاعَةُ، وَالْوَقْتُ. أَمَّا الْمِصْرُ الْجَامِعُ فَشَرْطُ وُجُوبِ الْجُمُعَةِ، وَشَرْطُ صِحَّةِ أَدَائِهَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا حَتَّى لَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ إلَّا عَلَى أَهْلِ الْمِصْرِ وَمَنْ كَانَ سَاكِنًا فِي تَوَابِعِهِ، وَكَذَا لَا يَصِحُّ أَدَاءُ الْجُمُعَةِ إلَّا فِي الْمَصْرِ وَتَوَابِعِهِ، فَلَا تَجِبُ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى الَّتِي لَيْسَتْ مِنْ تَوَابِعِ الْمَصْرِ وَلَا يَصِحُّ أَدَاءُ الْجُمُعَةِ فِيهَا". ([فَصْلٌ بَيَانُ شَرَائِطِ الْجُمُعَةِ] (فَصْلٌ) :وَأَمَّا بَيَانُ شَرَائِطِ الْجُمُعَةِ، ١/ ٥٥٨ - ٥٥٩)

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسافر گاؤں میں  ظہر کی نماز ہی ادا کرے، جمعہ کی نماز کے لیے شہر جانے کی  شرعاً ضرورت نہیں، البتہ اگر وہ شہر میں ہو تو اس صورت میں اس کے لیے جمعہ کی نماز ادا کرنا افضل ہے، جیساکہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"( وفاقدها) أي هذه الشروط أو بعضها (إن) اختار العزيمة و (صلاها) وهو مكلف وقعت فرضاً ... و في البحر: هي أفضل إلا للمرأة".

و في الشامية:

"(قوله: إن اختار العزيمة) أي صلاة الجمعة؛ لأنه رخص له في تركها إلی الظهر فصارت الظهر في حقه رخصةً، و الجمعة عزيمةً، كالفطر للمسافر هو رخصة له والصوم عزيمة في حقه؛ لأنه أشق. و فيه أيضاً: الظهر لهم رخصة، فدل علی أن الجمعة عزيمة، و هي أفضل إلا للمرأة؛ لأن صلاتها في بيتها أفضل، و أقره في النهر". ( ٢/ ١٥٤ - ١٥٥،ط سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں