بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مسافر نے پوری نماز پڑھی


سوال

 اگر کسی نے سفر میں پوری نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

جواب

مسافر  اگر منفرداً (تنہا) نماز ادا کرے یا امامت کرے تو اس پر چار رکعات والی نماز میں قصر کرنا یعنی  دو رکعت پڑھنا واجب ہے۔  اگر پوری چار رکعت منفرداً پڑھے گا تو دو صورتیں ہیں:

1۔۔ اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ کیا تو فرض نماز ادا ہوجائے گی، لیکن گناہ گار ہوگا، پہلی دو رکعت فرض ہوجائیں گی اور دوسری دو رکعت  نفل  ہوجائیں گی، جب تک نماز کا وقت باقی ہو مسافر پر اس فرض نماز کاقصر کےساتھ اعادہ کرنا واجب ہوگا، اور وقت گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہوگا۔

2۔۔  اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ میں نہیں بیٹھا تو اس کی فرض نماز باطل ہوجائے گی، اور پوری نماز نفل شمار ہوگی، وقت باقی ہو یا نہیں اس پر فرض نماز قصر کے ساتھ لوٹانا واجب ہوگا۔

اور اگر  مسافر اما م نے امامت کرائی  اور پوری نماز پڑھائی اور قعدہ اولی کیا تو مسافر مقتدیوں کی نماز درست ہوجائے گی، البتہ مقیم مقتدیوں کی نماز درست نہیں ہوگی، ان کے ذمہ اعادہ کرنا واجب ہے:

''فلو أتم المقیمون صلاتهم معه فسدت ؛ لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل''۔ (شامی ص ۸۲۷ ج۱ ) فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909200965

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں