بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

مسائل تیمم


سوال

١- کیا تیمم میں دونوں ہاتھوں سے منہ کا مسح کرنا لازم ہے؟ اگر ایک ہاتھ سے منہ اور دوسرے ہاتھ سے بازو کا مسح کیا جاۓ تو تیمم ہو گا یا نہیں ؟

 ٢-باوجود قدرت پانی کے قرآن پاک کو چھونے کے لیے تیمم جائز ہے یا نہیں ؟

 ٣-اگر بندہ کسی ایسی جگہ پر جائے جہاں پر برف ہی برف ہو اوربرف کو پگھلاکر پانی کرنے کا کوئی انتظام نا ہو تو وضو یا تیمم کا حکم بیان کیجیے۔

٤-کسی آدمی کے دونوں بازو شل ہو اور اس کو تیمم کروانے والا بھی نا ہو تو وہ تیمم کیسے کرے ؟

٥-آج کل جنازہ ولی نہیں پڑھاتا بلکہ کوئی عالم پڑھاتا ہے، کیا ولی کو تیمم جائز ہے ؟

٦-کیا کوئی شخص ولی سے مقدم ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تونمازہ جنازہ میں ایسے شخص کی موجودگی سے ولی تیمم کرے گا یا وضو ؟

٧-کیاایک ہی مٹی سے سے کئی آدمی تیمم کر سکتے ہیں؟ مستعمل مٹی کا حکم بیان کیجیے۔

٨-ایک آدمی تیمم کرتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے پھر وقت کے اندر پانی مل جاتا ہے کیا وہ نماز کا اعادہ کرے گا ؟

٩-ایک آدمی کے پاس پانی موجود تھا وہ بھول گیا تیمم کر کے نماز ادا کر لی پھر اسے پانی یاد آگیا ، اسے وقت نماز کے اندر پانی کی یاد آئےیا باہر ، دونوں صورتوں میں اعادہ نماز کا کیا حکم ہے ؟

١٠-قیدی اگر مٹی اور پانی پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کے لیے نمازکا کیا حکم ہے ؟

١١-کیاجنازے کے لیے کیے گئے تیمم سے پنج وقتہ نماز کی ادائیگی ہو سکتی ہے (باوجود قدرت پانی اور پانی کے پر قدرت نا ہونا ، دونوں صورتوں کا حکم بیان کر دیجیے)، کیا اس سے قرآن پاک کی تلاوت کی جا سکتی ہے ؟

جواب

1۔تیمم میں دو دفعہ زمین پر ہاتھ مارنا ضروری ہے، ایک ضرب سے چہرہ اور دوسرے سے دونوں ہاتھوں کا مسح کرنا ہے، اگر کوئی شخص ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر ایک ہتھیلی سے چہرہ اور دوسری سے ہاتھوں پر مسح کرنا درست نہیں۔

2۔پانی پر قدرت ہونے کے باوجود قرآن کریم چھونے کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں۔

3۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ پر موجود ہو جہاں برف ہی برف ہو تو وہ برف کو پگھلا کر پانی سے وضو کرے، اگر برف پگھلا کر وضو کرنا ممکن نہ ہو تو مٹی یا زمین کی جنس سے تیمم کرے ، اگر مٹی یا زمین کی جنس میں سے کوئی چیز موجود نہ ہو   تو ایسا شخص شریعت کی اصطلاح میں "فاقد الطہورین" کہلاتا ہے، ایسے شخص کے لیے  حکم یہ ہے کہ وہ نمازیوں کی مشابہت اختیار کرکے نماز مکمل کرے اور پھر پانی پر قدرت پانے کے بعد وضو کرکے نماز کا اعادہ کرے۔

4۔ اگر تیمم کرنے والے شخص  کے دونوں بازو شل ہوگئے ہوں اور اس کو کئی دوسرا شخص تیمم کرانے والا بھی نہ ہو تو وہ اپنے ہاتھوں اور چہرے کو کسی دیوار یا زمین پر پھیر لے، نماز پڑھنا نہ چھوڑے۔

5۔ اگر ولی کے علاوہ کوئی شخص نماز جنازہ پڑھاتا ہے اور ولی بے وضو ہو تو وہ وضو کرکے نماز جنازہ پڑھے، کیوں کہ نماز جنازہ کا حق ولی کو حاصل ہے، اس کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں، اگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھ لیا تو نماز جنازہ دوبارہ پڑھا جائے گا۔

تاہم اگر کسی میت کے کئی ولی ہوں اور ایک ولی نے کسی کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی اور کوئی ایک ولی بے وضو ہو اور اسے یہ خوف ہو کہ وضو کرے گا تو نماز جنازہ فوت ہوجائے گا تو اس کے لیے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔

6۔ فقہِ حنفی میں نما ز جنازہ کی امامت کے  لیے سب سے مقدم مسلمان حاکمِ وقت ہےیا اس کا نائب، پھر قاضی، پھر امامِ مسجدِ محلہ اورپھر میت کا ولی ہے، محلہ کے امام کا ولی پر حقِ امامت میں مقدم ہونا اس وقت ہے جب کہ وہ ولی سے افضل ہو، لیکن اگر ولی امام محلہ سے اعلم یا اتقی ہو تو ولی کا حق مقدم ہے۔

اگر نماز جنازہ پڑھانے کے لیے ولی سے مقدم کوئی شخص موجود ہے تووہ نماز جنازہ کے لیے وضو کرسکتا ہے۔

7۔ ایک ہی مٹی سے کئی آدمی تیمم کرسکتے ہیں۔

8۔ تیمم کرکے نماز پڑھی اور پھر وقت کے اندر پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔

9۔ اگر کسی شخص کے پاس پانی موجود تھا وہ بھول گیا تیمم کرکے نماز ادا کرلی پھر اسے وقت ک اندر یا وقت کے بعد پانی یاد آگیا دونوں صورتوں میں اعادہ نہیں، بشرطیکہ پانی کا بھولنا شہر سے باہر ہو، پانی ایسی جگہ رکھ کر بھولا ہو جہاں پانی رکھ کر بھولنا ممکن ہو۔

(10) قیدی اگر پانی اور مٹی پو قدرت نہ رکھتا ہوتواس کے لیے  حکم یہ ہے کہ وہ نمازیوں کی مشابہت اختیار کرکے نماز مکمل کرے اور پھر پانی پر قدرت پانے کے بعد وضو کرکے نماز کا اعادہ کرے۔

11۔ اگر پانی پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے جنازے کے لیے تیمم کیا گیا تو اس سے پنج وقتہ نماز کی ادائیگی  اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا درست ہے،لیکن اگر پانی پر قدرت ہونے کے باوجود جنازے کے لیے تیمم کیا گیا تو اس سے پنج وقتہ نماز کی ادائیگی  اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات

(1) وإن مسح وجهه وذراعيه بضربة واحدة لا يجزيه. كذا في فتاوى قاضي خان.

(الفتاوى الهندية ١ / ٢٦ ط : دار الفكر)

(2) ولنوم وسلام ورده وإن لم تجز الصلاة به. قال في البحر: وكذا لكل ما لا تشترط له الطهارة؛ لما في المبتغى. وجاز لدخول مسجد مع وجود الماء وللنوم فيه وأقره المصنف، لكن في النهر: الظاهر أن مراد المبتغى للجنب فسقط الدليل قلت: وفي المنية وشرحها: تيممه لدخول مسجد ومس مصحف مع وجود الماء ليس بشيء بل هو عدم؛ لأنه ليس لعبادة يخاف فوتها، لكن في القهستاني عن المختار: المختار جوازه مع الماء لسجدة التلاوة، لكن سيجيء تقييده بالسفر لا الحضر. ثم رأيت في الشرعة وشروحها ما يؤيد كلام البحر، قال: فظاهر البزازية جوازه لتسع مع وجود الماء وإن لم تجز الصلاة به. قلت: بل لعشر بل أكثر، لما مر من الضابط أنه يجوز لكل ما لا تشترط الطهارة له ولو مع وجود الماء؛ وأما ما تشترط له فيشترط فقد الماء كتيمم لمس مصحف فلا يجوز لواجد الماء. وأما للقراءة، فإن محدثا فكالأول أو جنبا فكالثاني

و في الرد: فالظاهر عدم الصحة إلا فيما يخاف فوته كما قررناه قبل فتدبر

(رد المحتار ١ / ٢٤٣ إلى ٢٤٥ ط:سعيد)

 (3) الفتاوى الهندية - (1 / 378)

ولا يتيمم عند وجود آلة التقوير في نهر جامد تحته ماء وقيل يتيمم وفي جمد أو ثلج ومعه آلة الذوب لا يتيمم وقيل يتيمم والظاهر الأول منهما كما لا يخفى  هكذا في البحر الرائق .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 252)

(والمحصور فاقد) الماء والتراب (الطهورين) بأن حبس في مكان نجس ولا يمكنه إخراج تراب مطهر، وكذا العاجز عنهما لمرض (يؤخرها عنده: وقالا: يتشبه) بالمصلين وجوبا، فيركع ويسجد إن وجد مكانا يابسا وإلا يومئ قائما ثم يعيد كالصوم (به يفتى وإليه صح رجوعه) أي الإمام كما في الفيض، وفيه أيضا

(4) الفتاوى الهندية - (1 / 355)

ولو شلت يداه يمسح يده على الأرض ووجهه على الحائط ويجزيه ولا يدع الصلاة ، هكذا في الذخيرة في الفصل الخامس قبيل فصل التيمم .

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2 / 57)

وفي الخلاصة ولو شلت كلا يديه يمسح وجهه وذراعيه على الحائط ا هـ .

البناية شرح الهداية - (1 / 150)

وإن شلت يداه مسح يديه بالأرض ووجهه بالحائط ولا يدع الصلاة.

(5) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 241)

 اعلم أنه اختلف فيمن له حق التقدم فيها؛ فروى الحسن عن أبي حنيفة أنه لا يجوز للولي؛ لأنه ينتظر ولو صلوا له حق الإعادة وصححه في الهداية والخانية وكافي النسفي. وفي ظاهر الرواية: يجوز للولي أيضا؛ لأن الانتظار فيها مكروه وصححه شمس الأئمة الحلواني: أي سواء انتظروه. أو لا قال في البرهان: إن رواية الحسن هنا أحسن؛ لأن مجرد الكراهة لا يقتضي العجز المقتضي لجواز التيمم؛ لأنها ليست أقوى من فوات الجمعة والوقتية مع عدم جوازه لهما، وتبعه شيخ مشايخنا المقدسي في شرح نظم الكنز لابن الفصيح. اهـ ملخصا من حاشية نوح أفندي (قوله أي كل تكبيراتها) فإن كان يرجو أن يدرك البعض لا يتيمم؛ لأنه يمكنه أداء الباقي وحده بحر عن البدائع

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (3 / 322)

ولو كان للميت وليان في درجة واحدة فأكبرهما سنا أولى ؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بتقديم الأسن في الصلاة ، ولهما أن يقدما غيرهما ولو قدم كل واحد منهما رجلا على حدة ، فالذي قدمه الأكبر أولى ، وليس لأحدهما أن يقدم إنسانا إلا بإذن الآخر ؛ لأن الولاية ثابتة لهما إلا أنا قدمنا الأسن لسنه

(6)  (ويقدم في الصلاة عليه السلطان ) إن حضر ( أو نائبه ) وهو أمير المصر ( ثم القاضي ) ثم صاحب الشرط ثم خليفته القاضي ( ثم إمام الحي ) فيه إيهام وذلك أن تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي وإلا فالولي أولى، كما في المجتبى و شرح المجمع للمصنف، وفي الدراية: إمام المسجد الجامع أولى من إمام الحي أي مسجد محلته ، نهر، ( ثم الولي ) بترتيب عصوبة الإنكاح إلا الأب". (2/219)

(7) البناية شرح الهداية - (1 / 550)

ويجوز التيمم بالتراب المستعمل عندنا، وفي قول للشافعي وظاهر مذهبه لا يجوز، والمستعمل ما يقام في العضو. وقال بعض أصحابه: ما بقي في العضو مستعمل دون ما يتناثر عنه، كذا في " الحلية "، ولو تيمم جماعة بحجر واحد أو لبنة واحدة أو أرض جاز.

(8)  سنن أبي داود (1 / 133)

عن أبى سعيد الخدرى قال خرج رجلان فى سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء فى الوقت فأعاد أحدهما الصلاة والوضوء ولم يعد الآخر ثم أتيا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فذكرا ذلك له فقال للذى لم يعد « أصبت السنة وأجزأتك صلاتك ». وقال للذى توضأ وأعاد « لك الأجر مرتين ».

بذل المجهود في حل سنن أبي داود  (2 / 541)

أجمعوا  على أنه إذا رأى الماء بعد فراغه من الصلاة لا إعادة عليه، وإن كان الوقت باقيًا

(9) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 249)

(صلى) من ليس في العمران بالتيمم (ونسي الماء في رحله) وهو مما ينسى عادة (لا إعادة عليه) ولو ظن فناء الماء أعاد اتفاقا كما لو نسيه في عنقه أو ظهره أو في مقدمه راكبا أو مؤخره سائقا أو نسي ثوبه وصلى عريانا أو في ثوب نجس أو مع نجس ومعه ما تزيله أو توضأ بماء نجس أو صلى محدثا ثمذكر أعاد إجماعا.

و فی الرد: (قوله لا إعادة عليه) أي إذا تذكره بعدما فرغ من صلاته، فلو تذكر فيها يقطع ويعيد إجماعا سراج، وأطلق فشمل ما لو تذكر في الوقت أو بعده كما في الهداية وغيرها خلافا لما توهمه في المنية

(10) الفتاوى الهندية - (1 / 378)

ولا يتيمم عند وجود آلة التقوير في نهر جامد تحته ماء وقيل يتيمم وفي جمد أو ثلج ومعه آلة الذوب لا يتيمم وقيل يتيمم والظاهر الأول منهما كما لا يخفى  هكذا في البحر الرائق .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 252)

(والمحصور فاقد) الماء والتراب (الطهورين) بأن حبس في مكان نجس ولا يمكنه إخراج تراب مطهر، وكذا العاجز عنهما لمرض (يؤخرها عنده: وقالا: يتشبه) بالمصلين وجوبا، فيركع ويسجد إن وجد مكانا يابسا وإلا يومئ قائما ثم يعيد كالصوم (به يفتى وإليه صح رجوعه) أي الإمام كما في الفيض، وفيه أيضا

(11) الفتاوى الهندية - (1 / 343)

لو تيمم لصلاة الجنازة أو لسجدة التلاوة أجزأه أن يصلي به المكتوبة بلا خلاف ،كذا في المحيط .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 245)

(قوله بخلاف صلاة جنازة) أي فإن تيممها تجوز به سائر الصلوات لكن عند فقد الماء، وأما عند وجوده إذا خاف فوتها فإنما تجوز به الصلاة على جنازة أخرى إذا لم يكن بينهما فاصل كما مر، ولا يجوز به غيرها من الصلوات أفاده ح


فتوی نمبر : 143909202029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں