بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1441ھ- 09 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مزاح میں سوالیہ جملہ کہنا


سوال

ایک مشہور حدیث کے مطابق ، جھوٹ بولنے کی اجازت اس وقت بھی نہیں ہے جب کوئی شخص مذاق کرتا ہے، اگر بیان کو ایک سوال میں تبدیل کردیا جائے تو  اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مثال کے طور پر  مذاق میں  "کاشف آپ کی چائے میں نمک ڈال رہا ہے" کہنے کے بجائے ، ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے ، "کیا کاشف آپ کی چائے میں نمک ڈال سکتا ہے؟"

جواب

اگر کوئی شخص ازراہِ  مزاح یہ کہے: "کیا کاشف آپ کی چائے میں نمک ڈال سکتا ہے؟"  تو یہ جھوٹ نہیں، کیوں کہ سوالیہ جملہ کہنے والے  کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جاسکتا۔

"قوله : «والخبر ما تطرق إليه التصديق والتكذيب»، أي : ما صح أن يقال في جوابه : صدق أو كذب ; فيخرج منه الأمر ، والنهي ، والاستفهام ، والتمني ، والدعاء ، نحو : قم ، ولاتقم ، وهل تقوم ، وليتك تقوم ، واللهم أقم فلانا من صرعته؛ إذ لايصح أن يقال في جواب شيء من ذلك : صدق أو كذب". (شرح مختصر الروضة (2 / 67) فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200596

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں