بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

جو جانور کسی کو قریب نہ آنے دے اسے تبدیل کرنے کا حکم


سوال

کیا قربانی کے جانور کو صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے قریب کسی کو نہیں آنے دیتا اور مارتا ہے، واپس یا تبدیل کرایا جا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ جانور میں ایسا کوئی عیب نہیں ہے جس کی وجہ سے قربانی جائز نہ ہو تو اس کی قربانی درست ہے ،صرف اس وجہ سے کہ وہ کسی کو قریب نہیں آنے دیتا اسے واپس کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اگر جانور  اتنا باؤلا ہے کہچارہ بھی نہیں کھاتا تو اس صورت میں مذکورہ جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی اور اس جانور کو فروخت کرکے یا تبدیل کرکے دوسرا جانور قربانی کرنا ہوگا۔ نیز اس صورت میں دوسرے جانور کی قیمت پہلے جانور سے کم نہیں ہونی چاہیے، کم قیمت جانور سے تبدیلی کی صورت میں دونوں جانوروں کی قیمت میں جو فرق ہوگا وہ صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

"وتجوز الثولاء وهي المجنونة، الا اذا كان ذلك يمنع الرعي والاعتلاف." (الفتاوى الهندية، ٥/٢٩٨) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے