بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

مرد کا احرام کی حالت میں دو گھنٹے تک موزے پہنے رہنے کا حکم


سوال

حالتِ احرام میں دو گھنٹے  کی مقدار تک مرد  کے موزے  پہننے  کی صورت میں کیا حکم ہے؟ 

جواب

اگر کوئی مرد حالتِ احرام میں دو گھنٹے  تک موزے پہنے رہے کہ جس سے اس کے ٹخنے  چھپے رہیں تو اس پر دم لازم نہیں، البتہ ایک صدقہ فطر کے بقدرصدقہ لازم ہے۔ مذکورہ حکم اس صورت میں ہے جب مکمل عمرہ موزے  پہننے  کی حالت میں ادا نہ کیا ہو، لہذا اگر دو  گھنٹے موزے پہنے اور عمرہ دو گھنٹے کے اندر مکمل کرلیا تو دم لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 490):
"(وخفين إلا أن لايجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراك.

(قوله: وخفين) أي للرجال؛ فإن المرأة تلبس المخيط والخفين، كما في قاضي خان، قهستاني ... (قوله: فيقطعهما) أما لو لبسهما قبل القطع يومًا فعليه دم، وفي أقل صدقة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 547):
"[تنبيه] ذكر بعض شراح المناسك:

لو أحرم بنسك وهو لابس المخيط وأكمله في أقل من يوم وحل منه لم أر فيه نصًّا صريحًا، ومقتضى قولهم أن الارتفاق الكامل الموجب للدم لايحصل إلا بلبس يوم كامل أن تلزمه صدقة. ويحتمل أن يقال: إن التقدير باليوم باعتبار كمال الارتفاق إنما هو فيما إذا طال زمن الإحرام، أما إذا قصر كما في مسألتنا فقد حصل كمال الارتفاق فينبغي وجوب الدم، ولكن مع هذا لا بد من نقل صريح". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144104200983

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں