بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

مردوں کا انگوٹھی یا چھلّا پہننا


سوال

مردوں کا انگوٹھی یا چھلّا پہننے کی شرعی کیا حیثیت ہے؟

جواب

مردوں کے لیے ایک مثقال (ساڑھے چار ماشے  یعنی۴گرام،۳۷۴ملی گرام (4.374 gm) سے کم  وزن کی  چاندی کی انگوٹھی یا چھلّا پہننا جائز ہے، چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے، البتہ عام آدمی کے لیے چاندی کی  انگوٹھی بھی  نہ پہننا بہتر اور افضل ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 358)

" (ولا يتحلى) الرجل (بذهب وفضة)  مطلقاً، (إلا بخاتم ومنطقة وجلية سيف منها) أي الفضة ... (ولا يتختم) إلا بالفضة؛ لحصول الاستغناء بها، فيحرم (بغيرها كحجر) ... ولا يزيده على مثقال".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/361)

"(وَتَرْكُ التَّخَتُّمِ لِغَيْرِ السُّلْطَانِ وَالْقَاضِي) وَذِي حَاجَةٍ إلَيْهِ كَمُتَوَلٍّ (أَفْضَلُ)..."
"(قَوْلُهُ: فِي يَدِهِ الْيُسْرَى) وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي خِنْصَرِهَا دُونَ سَائِرِ أَصَابِعِهِ، وَدُونَ الْيُمْنَى، ذَخِيرَةٌ، (قَوْلُهُ: فَيَجِبُ التَّحَرُّزُ عَنْهُ) عِبَارَةُ الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ الْمُحِيطِ: جَازَ أَنْ يَجْعَلَهُ فِي الْيُمْنَى إلَّا أَنَّهُ شِعَارُ الرَّوَافِضِ اهـ وَنَحْوُهُ فِي الذَّخِيرَةِ، تَأَمَّلْ. (قَوْلُهُ: وَلَعَلَّهُ كَانَ وَبَانَ) أَيْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ شِعَارِهِمْ فِي الزَّمَنِ السَّابِقِ، ثُمَّ انْفَصَلَ وَانْقَطَعَ فِي هَذِهِ الْأَزْمَانِ، فَلَا يُنْهَى عَنْهُ كَيْفَمَا كَانَ. وَفِي غَايَةِ الْبَيَانِ: قَدْ سَوَّى الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ فِي شَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ بَيْنَ الْيَمِينِ وَالْيَسَارِ، وَهُوَ الْحَقُّ. (قوله: وترک التختم اهـ) وفي البستان عن بعض التابعین: لا یتختم إلا ثلاثة: أمیر أو کاتب أو أحمق اهـ․" (ردالمحتار علی الدرالمختار، ۵/۲۳۱
)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202184

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے