بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والد کی بددعا کے اثرات سے بچاؤ


سوال

میرے والد کی وفات ہو گئی ہے،کہنا نہیں چاہیے مگر سوال کے لیے ضروری ہے ، وہ اکثر والدہ اور ہم بہن بھائیوں کو مارتے اور غصے ہوتے تھے،کاروباری تھے مگر گھر میں سب ان سے بات کرتے گھبراتے تھے،غصے میں وہ والدہ کو ذرہ سی بات پر مارتے بھی تھے اور اکثر بدعا دیتے تھے،  مگر میری والدہ نے ساری زندگی صبر سے گزار دی۔ایک دفعہ انہوں نے مجھے بھی غصے میں ایک ایسی بدعا دے دی جو میرے لیے ایک روگ سے کم نہیں تھی۔ بہر حال دو سال شدید موذی امراض کے پیشِ نظر وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔میں ان کی اس بات کو جو وہ غصے میں مجھے کہہ گئے تھے بہت دل پر لیتا ہوں،مگر میری والدہ مجھے کہتی ہیں کہ: وہ غصےکی حالت میں بہت کچھ کہا کرتے تھے، ایسا کچھ ہوتا نہیں تھا اور وہ والد صاحب کے لیے بھی بہت پڑھائی کرتی ہیں اور ان کی دعائیں میرے ساتھ  ہیں۔ کیا جب بھی میرے ذہن میں ان کی وہ بد دعا آئے تو میں کیا کروں؟

جواب

والدین اپنی اولاد کے حق میں برا نہیں سوچتے، اور نہ ہی بلاوجہ بددعا دیتے ہیں، البتہ اولاد ہی بعض مرتبہ اس بات کا باعث بن  جاتی ہے کہ والدین نہ چاہتے ہوئے بھی اولاد کے لیے بددعا کرجاتے ہیں، سائل کے والد چوں کہ اب اس دنیا میں نہیں رہے؛ اس لیے ان کے لیے  خوب ایصال ثواب کرے اور کبھی اس بددعا کا خیال آجائے تو استغفار کا اہتمام کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے