بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مدعی نبوت کی توبہ


سوال

کیا نبوت کے دعویدار کی توبہ قبول کی جاتی ہے?

جواب

مدعی نبوت کا حکم مرتد والا ہے، اگر وہ توبہ نہیں کرے گا تو اسے قتل کردیا جائے گا، البتہ راجح یہی ہے کہ اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (40 / 39):
"ومن هنا ينص الفقهاء على أن من ادعى أنه شريك لمحمد صلى الله عليه وسلم في الرسالة، أو قال بجواز اكتسابها بتصفية القلب وتهذيب النفس فهو كافر.
وكذا إن ادعى أنه يوحى إليه وإن لم يدع النبوة. قال القاضي عياض: لا خلاف في كفير مدعي الرسالة. قال: وتقبل توبته على المشهور. وقال عبد القاهر البغدادي: قال أهل السنة بتكفير كل متنبئ، سواء كان قبل الإسلام كزرادشت، ويوراسف، وماني، وديصان، ومرقيون، ومزدك، أو بعده، كمسيلمة، وسجاح، والأسود بن يزيد العنسي، وسائر من كان بعدهم من المتنبئين. ومن صدق مدعي النبوة يكون مرتدا؛ لكفره، كذلك  لإنكاره الأمر المجمع عليه.ونقل القرافي عن أشهب أنه قال: إن كان المدعي للنبوة ذميا استتيب إن أعلن ذلك، فإن تاب وإلا قتل". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201281

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے