بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم دینا


سوال

1- میری بیٹی کراچی کے معروف میڈیکل کالج میں پورے شرعی اَحکام(شرعی پردہ) کے اہتمام کے ساتھ پڑھنے جاتی ہے، اس میڈیکل یونیورسٹی میں لڑکو ں کی تعداد 20  سے 30  فی صد ہے، جب کہ لڑکیوں کی تعداد 70  سے 80  فیصد ہے، جب کہ کراچی میں لڑکیوں کے لیے کوئی الگ کالج یایونیورسٹی نہیں ہے، جہاں ہم اپنی بیٹی کا داخلہ کرسکیں، اس میڈیکل یونیورسٹی کے لیے ا ور اپنے بچوں کی بہترتربیت اور دینی ماحوال کے لیے کینیڈا سے پاکستان شفٹ ہوئے ہیں، ہمارا تعلق ایک پشتون قبیلہ سے ہے، جہاں پر لڑکیوں کی دنیاوی تعلیم کی بڑی مخالفت کی جاتی ہے، جب کہ پردے اور پشتون روایات کوسامنے رکھتے ہوئے ہمیں زیادہ سے زیادہ خواتین ڈاکٹرز کی ضرورت ہے،  اس ضرورت کومدنظر رکھتے ہوئے اپنی قوم کی خواتین کی خدمت کے لیے اپنی بیٹی کا داخلہ میڈیکل یونیورسٹی میں کیا، اب میرے والد صاحب اس کو غیرشرعی اور غیراسلامی قراردے رہے ہیں اور اس کو غیرت کا مسئلہ بنارہے ہیں۔

2-  اگرمیں لڑکیوں کے میڈیکل کالج کے لیے کراچی سے لاہور یا راولپنڈی شفٹ ہوتاہوں تو میڈیکل کی پڑھائی کے درمیان ہسپتال میں پریکٹس کروائی جاتی ہے تو شرعی پردہ میں رہتے ہوئے بھی مخلوط ماحول کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس پربھی والد صاحب کو اعتراض ہے،کسی بھی میڈیکل کالج چاہے وہ مخلوط ہو یا لڑکیوں کا علیحدہ ہو، میڈیکل پریکٹس کے لیے ہسپتال میں مخلوط ماحوال کاسامناہوگا۔

جواب

1 و 2۔ لڑکیوں کو مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوانا جائز نہیں، اس میں کئی قباحتیں ہیں، تاہم اگر لڑکی کو مکمل پردے  کے ساتھ لڑکیوں کے لیے مخصوص تعلیمی ادارے میں پڑھائی کے لیے بھیجا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ کیجیے:

مخلوط تعلیم گاہ میں پڑھنے کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200591

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں