بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مختلف شہروں میں پندرہ دن قیام ہو تو نماز قصر کرے یا اتمام


سوال

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہم عمرے پر آئے ہیں تو ہمیں پہلے ۳ دن مکے میں رکنا ہے پھر ۸ دن مدینے میں، پھر واپس ۳ دن مکہ میں ٹھہرنا ہے۔ یہ کل چودہ دن ہوئے اور ایک دن جدہ آنے جانے میں لگے گا۔ تو اب ہم انفرادی نمازیں جو ہم ہوٹل میں ادا کریں گے تو وہ قصر ادا کریں گے یا نہیں ؟ کیوں کہ مجھے اتنا معلوم ہے کہ اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ رکنے کی نیت ہو تو پوری نماز پڑھنی ہوتی ہے۔ مگر ہم تو کسی بھی شہر میں پندرہ دنوں کے لیے نہیں رک رہے ہیں، البتہ مجموعی طور پر سعودیہ میں پندرہ دن گزاریں گے۔

جواب

عمرہ کے سفر میں مختلف شہروں میں قیام کا دورانیہ پندرہ دن سے کم ہے، اس لیے آپ ہر شہر میں قصر نماز پڑھیں گے، ہر شہر کا حکم الگ الگ ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200565

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں