بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مال کے علاوہ کسی چیز سے جرمانہ لینا


سوال

مال کے علاوہ کسی دوسری چیز کے ذریعہ جرمانہ لے سکتے ہیں ؟

جواب

مالی جرمانہ شرعاً جائز نہیں ہے، مالی جرمانہ کے ناجائز ہونے کامطلب یہ نہیں ہے کہ صرف پیسوں کے ذریعے جرمانہ لینا ناجائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ  کوئی بھی مملوکہ چیز  خواہ وہ سامان ہو یا نقدی ہو، یا مویشی وغیرہ ، غرض کوئی بھی چیز جو قیمت رکھتی ہو اس کو جرمانہ میں لینا تعزیر بالمال کے زمرے میں آتا ہے۔

سوال کا مطلب اگر کچھ اور ہے تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ جواب معلوم کرلیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے