بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1441ھ- 23 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

مال دار شخص کے نابالغ بیٹے کو زکاۃ دینے کا حکم جب کہ وہ اپنے والد کی پرورش میں نہ ہو


سوال

بچہ نابالغ ہو اور باپ اس کی دیکھ بھال نہ رکھتا ہو، لیکن والد صاحبِ نصاب ہو تو اس کے بچہ کو زکاۃ دینا کیسا ہے؟

جواب

 مال دار (صاحبِ نصاب) آدمی اگر اپنے نابالغ بیٹے کے نفقہ کی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو نابالغ بچے کو زکاۃ دینا جائز ہوگا، بچہ اگر سمجھ دار ہے اور مال کی پہچان رکھتاہے تو زکاۃ پر اس کا قبضہ کرنا بھی درست ہوگا۔ (زکاۃ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا، بحوالہ فتاویٰ تاتارخانیہ، 2/272 ط: ادارۃ القرآن کراچی) فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144008201244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے