بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

لیٹ کر موبائل سے قرآن مجید پڑھنا


سوال

لیٹنے کی حالت میں موبائل سے قرآن مجید پڑھنا کیا جائز ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کی تلاوت کے آداب میں سے ہے کہ با وضو ہو کر پاک جگہ پر بیٹھ کر تلاوت کی جائے، لیٹ کر تلاوت کرنا (اگر لباس اور ستر کا اہتمام کیا جائے تو) جائز ہے، البتہ بغیر کسی مجبوری کے لیٹ کر تلاوت کرنا خلافِ ادب ہے؛ لہذا سائل کو چاہیے کہ خوب اہتمام کے ساتھ تلاوتِ کلامِ مجید  کی عادت بنائے ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

’’لابأس بقراء القرآن إذا وضع جنبه علی الأرض، ولکن ینبغي أن یضم رجلیه عند القراءة، کذا في المحیط. لا بأس بالقراء ة مضطجعاً إذا أخرج رأسه من اللحاف؛ لأنه یکون کاللبس، وإلا فلا، کذا في القنیة‘‘. (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهية، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح وقراءة القرآن والذکر...، (5/ 316) ط: رشیدیة)

{الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ} ذكر تعالى ثلاث هيئات لايخلو ابن آدم منها في غالب أمره، فكأنها تحصر زمانه. ومن هذا المعنى قول عائشة رضي الله عنها : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه. أخرجه مسلم . (الجامع لأحکام القرآن، للقرطبي) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201968

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں