بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1441ھ- 09 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

لڑکیوں کے سرکے بال کاٹنا


سوال

لڑکیوں کے سرکے بال کتنی عمر تک کاٹے اور مونڈے جاسکتے ہیں؟

جواب

بچی کے بال سات سال کی عمر تک کاٹے یا مونڈے جاسکتے ہیں، اس کے بعد کسی لڑکی یا عورت کے لیے علاج کی شدید مجبوری کے علاوہ سر منڈوانا ناجائز ہے، حدیثِ مبارک میں اس کی صراحتاً ممانعت وارد ہے، نیز سات سال سے بڑی عمر کی لڑکی اور عورت کے لیے حج، عمرے کے احرام سے حلال ہونے یا علاج کی مجبوری کے علاوہ سر کے بال کاٹنا بھی جائز نہیں ہے، الا یہ کہ بال قدموں تک پہنچ جائیں یا سرین سے نیچے اتنے بڑے ہوجائیں کہ عیب دار معلوم ہوں اور ان کی خیال داری واقعۃً بہت مشکل ہوجائے، تو سرین تک انہیں کاٹنے کی اجازت ہوگی، سرین سے اوپر کاٹنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

بلوغت کے قریب عمر کی لڑکیوں یا عورتوں کابلاعذر سر کے بال کاٹنا، نیز  فیشن یا مردوں کی مشابہت اختیار کرنے کے ارادے سے بال کاٹنا ناجائز ہے، لڑکی کی بلوغت کی کم سے کم عمر نو سال ہے، اور اہلِ علم نے لکھا ہے کہ سات سال کے بعد سے بچی کے بال نہ کاٹے جائیں۔

 ایسی عورتیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں، ان پر رسولِ  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے:" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسولِ  کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں" ۔

حاصل یہ ہے کہ عورتوں یا قریب البلوغ لڑکیوں کا (جس کی عمر اوپر گزرچکی ہے کہ سات سال کے بعد سے) مردوں کی مشابہت یافیشن کے طور پر بال کاٹنا ناجائزہے،  جیساکہ الدر المختار میں ہے:

" قَطَعَتْ شَعْرَ رَأْسِهَا أَثِمَتْ وَلُعِنَتْ زَادَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ وَإِنْ بِإِذْنِ الزَّوْجِ لِأَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ". ( شامی، ٦ / ٤٠٧) [تفسیر روح البیان،1/177،ط:داراحیاء التراث-البحرالرائق،8/233،ط:دارالمعرفة- فتاوی رحیمیه 10/120،ط:دارالاشاعت]

" قال النووي: قال الداودي: وكانت قد شبت شباباً حسناً رضي الله عنها. ولما كانت أعرف بنفسها وأنها بلغت مبلغ النساء قالت -كما روى عنها الترمذي-: إذا بلغت الجارية تسع سنين فهي امرأة". 

أنَّ النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست سنين، وأُدخلت عليه وهي بنت تسع.

هذا الحديث رواه البخاري في صحيحه عن خمسةٍ من مشايخه، وهم: محمد بن يوسف، ومعلى بن أسد، وقبيصة بن عقبة، وفروة بن أبي المغراء، وعبيد بن إسماعيل؛ وكلهم رووه من طريق هشام بن عروة عن أبيه عروة بن الزبير عن خالته عائشة رضي الله عنها. ينظر: صحيح البخاري (3894)، (3896)، (5133)، (5134)، (5158). فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200316

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں