بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

قیلولہ کا مسنون وقت اور مدت


سوال

قیلولہ کی سنت صرف آرام کرنے سے ادا ہوجائے گی یا سونا ضروری ہے؟ قیلولہ کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت میں محدثین کرام کیا فرماتے ہیں؟ ہمارے دیار میں قیلولہ کھانے کے بعد کیا جاتا ہے، بعض حضرات تو نماز کے بعد کرتے ہیں ، جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز سے پہلے فرمایا کرتے تھے؟ کیا نماز کے بعد قیلولہ کرنے سے سنت پوری ہوجائےگی؟

جواب

"قیلولہ "کے معنی ہیں: دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لیٹنا، خواہ نیند آئے یا نہ آئے. ( عمدۃ القاری للعینی)

"قیلولہ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول رہا ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "دن کے سونے کے ذریعے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو. (شعب الایمان للبیہقی) نیز دوپہر کو سونا عقل کی زیادتی اور کھانے کے ہضم کا باعث بھی ہے. قیلولہ کی کم ازکم یا زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق تلاش کے باوجود کوئی روایت نہیں ملی.

یہ سوال کہ آیا نمازِ ظہر سے پہلے ہو یا بعد میں؟ روایات سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا عام معمول "غداء "کے بعدسونے کا ملتا ہے،"غداء "دوپہر کا کھانا ہے جو ظہرسے پہلےکھایا جاتاہے، البتہ جمعہ کے دن کے متعلق روایات میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد کھانا اورقیلولہ ہوتاتھا۔

اس زمانے میں جمعہ کے علاوہ باقی دنوں میں دوپہر کا کھانا ظہر سے پہلے کھانے کا معمول تھا، اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ ظہر سے پہلے کھانا کھا کر قیلولہ کی عادت بنائی جائے۔ البتہ ظہر کے بعد کھانا کھا کر قیلولہ کی نیت سے لیٹنے سے بھی قیلولہ کی سنت پوری ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143806200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں