بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر چیز خریدنا


سوال

 قسطوں پر ضرورت کی چیز مارکیٹ سے زائد رقم پر خریدنا کیسا ہے؟ جیسے موٹر سائیکل کی مارکیٹ کی نقد قیمت 48000 ہے،  قسطوں پر 15 ہزار ایڈوانس اورماہانہ 3000 قسط سے یہ17 ماہ میں یہ موٹر سائیکل 68000 کی پڑ جائے گی، چوں کہ ضرورت کی چیز ہے اور اتنی خطیر رقم یک مشت دینا آسان نہیں،  تو یہ اس قسم کی قسطوں کی چیز سود کے زمرے میں آئے گی؟

جواب

قسطوں پر موٹرسائیکل یا دیگر اشیاء لینا جائز ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ عقد کے وقت کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ خریداری نقد پر ہورہی ہے یا ادھارپر، اور ادھار کی مدت طے کرلی جائے، اور قسط میں تاخیر ہونے کی صورت میں کوئی اضافہ/ جرمانہ وصول نہ کیاجائے۔ مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں تو یہ بیع ناجائز اور سود کے حکم میں ہوگی۔ واضح رہے کہ یہ شرائط عام اشیاء کے بارے میں ہیں، نقدی یا سونا چاندی قسطوں پر خریدنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے