بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر خرید و فروخت کی ناجائز صورت کا معاہدہ کرنا


سوال

"سی ایس ڈی" سٹور سے قسطوں پر گاڑی لی ہے،معاہدہ  میں یہ شرط ہے کہ قسط لیٹ ہونے کی صورت میں اضافی رقم لی جائے  گی، میں نے اس نیت سے لی ہے کہ قسط وقت پر ادا کروں گا اور لیٹ فیس سے بچنے کی کوشش کروں گا، چوں  کہ معاہدہ کرنا مجبوری ہےاور گناہ جب تک کیا نہ جاے اس پر عذاب نہیں،شرعی لحاظ سے راہ نمائی فرمائیں؟

جواب

یہ معاہدہ کرنا کہ اگر قسطوں میں تاخیر ہوگی تو جرمانہ بھرا جائے گا جائز نہیں، اگرچہ وقت پر قسطیں بھری جائیں؛  کیوں کہ ناجائز معاملے کا معاہدہ کرنا بھی ناجائز ہے، جب معاہدہ ناجائز ہے تو تاخیر کی صورت میں جرمانہ لینا بدرجہ اولیٰ ناجائزہوگا، اور یہ معاہدہ کرنا گویا گناہ پر رضامندی کا اظہار ہے جو مستقل گناہ ہے، اور تاخیر کی صورت میں اضافی رقم دینا یہ ایک مستقل گناہ ہے؛ لہذا ایسا معاہدہ ناجائز بھی ہے اور  گناہ بھی ملے گا۔ 

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإذا عقد الْعَقْدَ عَلَى أَنَّهُ إلَى أَجَلِ كَذَا بِكَذَا وَبِالنَّقْدِ بِكَذَا أَوْ قَالَ إلَى شَهْرٍ بِكَذَا أَوْ إلَى شَهْرَيْنِ بِكَذَا فَهُوَ فَاسِدٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُعَاطِهِ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ وَلِنَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  عَنْ شَرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ، وَهَذَا هُوَ تَفْسِيرُ الشَّرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ، وَمُطْلَقُ النَّهْيِ يُوجِبُ الْفَسَادَ فِي الْعُقُودِ الشَّرْعِيَّةِ، وَهَذَا إذَا افْتَرَقَا عَلَى هَذَا، فَإِنْ كَانَ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى قَاطَعَهُ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ، وَأَتَمَّا الْعَقْدَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ؛ لِأَنَّهُمَا مَا افْتَرَقَا إلَّا بَعْدَ تَمَامِ شَرَطِ صِحَّةِ الْعَقْدِ". (13 /9، باب البیوع الفاسدہ، ط: غفاریہ)                     

         شرح المجلہ میں ہے:

"البیع مع تأجیل الثمن و تقسیطه صحیح ...  یلزم أن تکون المدة معلومةً في البیع بالتأجیل والتقسیط". (2/166، المادۃ 245، 246، ط: رشیدیہ)

البحر الرائق میں ہے: 

"لِأَنَّ لِلْأَجَلِ شَبَهًا بِالْمَبِيعِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُزَادُ فِي الثَّمَنِ لِأَجْلِ الْأَجَلِ، وَالشُّبْهَةُ فِي هَذَا مُلْحَقَةٌ بِالْحَقِيقَةِ". (6/114، باب المرابحۃ والتولیہ، ط:سعید) 

 فتاوی شامی میں ہے:

"(وَ) لَا (بَيْعٌ بِشَرْطٍ) عَطْفٌ عَلَى إلَى النَّيْرُوزِ يَعْنِي الْأَصْلُ الْجَامِعُ فِي فَسَادِ الْعَقْدِ بِسَبَبِ شَرْطٍ(لَايَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَلَا يُلَائِمُهُ وَفِيهِ نَفْعٌ لِأَحَدِهِمَا أَوْ) فِيهِ نَفْعٌ (لِمَبِيعٍ) هُوَ (مِنْ أَهْلِ الِاسْتِحْقَاقِ) لِلنَّفْعِ بِأَنْ يَكُونَ آدَمِيًّا، فَلَوْ لَمْ يَكُنْ  كَشَرْطِ أَنْ لَا يَرْكَبَ الدَّابَّةَ الْمَبِيعَةَ لَمْ يَكُنْ مُفْسِدًا كَمَا سَيَجِيءُ (وَلَمْ يَجْرِ الْعُرْفُ بِهِ وَ) لَمْ (يَرِدْ الشَّرْعُ بِجَوَازِهِ)". (5/84، 85، مطلب فی البیع بشرط فاسد، ط : سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے