بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ پر زکات کا حکم


سوال

اگر کوئی پلاٹ انسٹالمنٹ (قسطوں) پر لیا  ہوا ہو اور ابھی اس کی قسطیں ختم نہ ہوئی ہوں اور قبضہ بھی نہ ملا ہو تو کیا اس صورت میں اس پلاٹ پر زکات دینی پڑے گی؟

جواب

قسطوں پر جو پلاٹ خریدا  جائے تو خریدنے والا اس پلاٹ کا مالک بن جاتا ہے  چاہے قبضہ ملا ہو یا نہ ملا ہو اور چاہے قسطیں باقی ہوں یا نہ ہوں، لہذا اگر مذکورہ پلاٹ  تجارت (بیچ کر نفع کمانے) کی نیت سے قسطوں  پر لیا ہے تو اس پر زکات واجب ہوگی، یعنی  اس کی موجودہ قیمتِ فروخت کا  ڈھائی فی صد بطورِ زکات ادا کرنا لازم  ہوگا، البتہ واجب الاداء اقساط میں سے جن قسطوں کی ادائیگی زکات کے رواں سال میں واجب ہوگئی تھی وہ کل رقم سے منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم کی زکات ادا کی جائے گی، لیکن اگر مذکورہ پلاٹ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا تو اس پر زکات واجب نہیں   ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200349

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے