بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر بائیک لینا


سوال

موٹر سائیکل نقد 56 ہزار کاہے، قسط والے نے مجھے دیاہے 78 ہزار پر۔ ایڈوانس میں پہلے 7000 ساتھ ہزار روپیہ مانگتا ہے اور مہینے کا تین 3000 ہزار قسط مانگتا ہے،  کیا یہ اتنا زیادہ منافع شریعت کی رو سے صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

قسطوں پر موٹرسائیکل یا دیگر اشیاء لینا جائز ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ عقد کے وقت کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ خریداری نقد پر ہورہی ہے یا ادھارپر، اور ادھار کی مدت طے کرلی جائے، اور قسط میں تاخیر ہونے کی صورت میں کوئی اضافہ/ جرمانہ وصول نہ کیاجائے اور عقد میں یہ شرط نہ ہو کہ اگر قیمت جلدی ادا کردی گئی تو قیمت کم ہوگی۔ مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں تو یہ بیع ناجائز اور سود کے حکم میں ہوگی۔

واضح رہے کہ نقدی یا سونا چاندی قسطوں پر خریدنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے