بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

قرض کے بدلہ پنشن لینے کا حق کسی کو دینا


سوال

اگر کسی شخص کو پیسے کی ضرورت ہے تو وہ کسی شخص کے پاس سے پیسے لیتا ہے اور اس کے بدلے  میں پینشن لینے کا حق ان  کو دے دیتا ہے تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟

جواب

پینشن  کی رقم حکومت کی جانب سے  ملازمت سے سبک دوش ہونے یا ملازم کے انتقال کی صورت میں تبرع اور احسان کے طور پر دی جاتی ہے، نیز فی الوقت یہ رقم کسی شخص کی ملکیت میں موجود نہیں ہوتی جب  تک کہ آدمی اس کو وصول نہ کرلے، اور نہ ہی فوری  کوئی شخص پینشن کی رقم کسی کے حوالے کرسکتا۔ نیز مستقبل میں پینشن کی رقم کے بہرصورت ملنے اور حتمی مقدار کا تعین کرنابھی ممکن نہیں ہے، اس لیے کسی سے قرض لے کر اس بدلہ میں پینشن کا حق فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔(احسن الفتاویٰ 6/521-آپ کے مسائل اور ان کا حل 7/75)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے