بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قرض دینے کا وعدہ کرکے انکار کردینا اور واپسی پر اضافی رقم کا مطالبہ


سوال

 زید کا عمرو کے ساتھ تجارتی لین دین ہے,  زید اور عمرو کی تجارت کی نوعیت بھی ایک ہے .زید کو تجارت میں نقصان ہونے کی وجہ سے زید نے عمرو سے 30000  ہزار ریال قرضہ مانگا، تو عمرو نے کہا: ٹھیک ہے میں  دے دوں گا ، آکر لے لو. زید نے  30000  ریال کے حساب سے اپنا سامان آڈر کر دیا اور سارے کاغذات تیار کرلیے اور سامان لانے کے  لیے ٹکٹ بھی بک کر لیا۔

پھر جب وہ قرضہ لینے عمرو کے پاس گیا تو اس نے کہا میں تمہیں30000 ریال دو ں گا، لیکن شرط یہ ہے کہ میں واپس 60000 ریال لوں گا یا اتنے ریال کا تجارتی سامان، اب زید پریشان ہو گیا کہ اگر وہ منع کرتا ہے تو اس کو  5 یا6  ہزار ریال کا نقصان ہو جائے گا ،  ایسی صورت میں کیا کیا جاۓ اس سے کیسے بچا جاۓ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عمرو کا طرزِ عمل شرعاً درست نہیں ہے، وعدہ کرکے اس کی خلاف ورزی کرنا منافقین کی علامت ہے، بالخصوص جب یہ کسی مسلمان کے لیے نقصان کا ذریعہ بھی بن جائے،  نیز اب قرض دینے کے لیے یہ شرط لگانا کہ واپسی پر اس سے دوگنا لوں گا، یا اس پر منافع وصول کروں گا، یہ معاملہ سودی ہے اور اضافی رقم لینا سود ہے۔ لہذا یہ صورت جائز نہیں ہے۔

عمرو کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق زید کو قرض دے دے؛ تاکہ وہ نقصان سے بچ سکے، اور قرض کی واپسی پر جتنی رقم ادا کی ہے، اتنی ہی واپس لے، کیوں کہ قرض پر مشروط نفع لینے کو حدیثِ مبارک  میں سود کہا گیا ہے۔

لیکن اگر عمرو منافع لینے پر بضد ہے، اور زید کے آڈر بک کرنے کی وجہ سے نقصان لاحق ہورہا ہے تو شرعی قواعد کے مطابق زید اور عمرو باہم عقدِ مضاربت کرلیں، یعنی عمرو کی رقم ہو اور زید کی محنت ہو، اور اس میں سے حاصل ہونے والا نفع دونوں باہم فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرلیں، مثلاً اس سرمایہ سے جو نفع ہوگا، اس نفع کا 30 فیصد فلاں کا اور 70فیصد فلاں کا، اس صورت میں اگرخدانخواستہ  زید کی تعدی اور کوتاہی کے بغیر کوئی نقصان ہوجائے تو نقصان پہلے نفع میں سے وضع کیا جائے گا، گویا دونوں کو ہی نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ اور اگر حاصل شدہ نفع سے نقصان پورا نہ ہو، یا نفع ہی نہ ہو تو  اصل سرمایہ سے نقصان پورا کیا جائے گا۔ الغرض عمرو کا متعینہ طور پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

صحيح البخاري (1/ 16):
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان".

الجامع الصغیر میں ہے: 

  "كل قرض جر منفعةً فهو ربا".(الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے