بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرضہ پر زائد رقم فکس کرنا


سوال

1۔  اگر  میں کسی سے قرضہ لوں، کاروبار کے لیے، یا کار خرید کر رینٹ پر چلانے کے لیے یا رکشہ کی خریداری کے لیے، تو کیاا س پر رقم فکس کرنا صحیح ہے؟

2۔  اگر میں کوئی گاڑی مثلاً  12 لاکھ  کی لوں، اور وہ گاڑی اپنے دوست کو پندرہ لاکھ  میں فروخت کردوں تو کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

1۔صورتِ  مسئولہ میں قرضہ پر زائد رقم فکس کرنا سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

2۔بارہ  لاکھ  کی گاڑی خرید کر پندرہ لاکھ میں فروخت کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے