بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے لیے شہرمیں کسی بھی مقام پرعید کی نمازکاہوجاناکافی ہے


سوال

شہر میں ایک جگہ نماز عید ہوگئی، جن لوگوں نے وہاں نماز عید پڑھ لی وہ جانور کی قربانی کر رہے تھے تو میں نے بھی جانور کی قربانی کروا لی، اس کے بعد میں نماز عید پڑھنے چلا گیا جہاں کچھ دیر سے نماز عید کا وقت مقرر تھا۔ کیا میری قربانی ہوگئی؟

جواب

عید کے دن شہر میں کہیں بھی عید کی نماز ادا ہوجائے تو قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے، اگر قربانی کرنے والے نے عید کی نماز نہیں پڑھی مگر شہر کی کسی بھی مسجد میں عید کی نماز اداہوگئی تو اس صورت میں عید کی نماز پڑھے بغیر بھی قربانی کرسکتا ہے کیونکہ خود قربانی کرنے والے کا عید کی نماز سے فارغ ہونا قربانی کے لیے شرط نہیں ہے بلکہ مسجد یا عید گاہ میں عید کی نماز ہوجانا کافی ہے۔

اگر شہر میں ایک مقام پر عید کی نماز ہوچکی ہے لیکن دوسری جگہ ابھی عید کی نماز نہیں ہوئی تب بھی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے۔


فتوی نمبر : 143612200013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے