بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کے سینگ


سوال

قربانی کے جانور کے سینگ اگر جڑ سے جاتے ہوئے ہوں تو اس کی قربانی ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ جانور کے سینگ جڑ سے ایسے اکھاڑ دینا کہ اس کا اثر جانور کے دماغ تک جا پہنچتا ہو، منع ہے اور ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں ہے۔  تاہم اگر سینگ جڑ سے اکھڑنے کے بعد زخم بھرچکا ہو اور دماغ پر زخم کا کوئی اثر نہ ہو یا سینگ جڑ سے اکھاڑے بغیر جڑ کےپاس سے کاٹ دیا گیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہوگی۔

 

"فتاوی ہندیہ" میں ہے:

'ویجوز بالجماء التي لا قرن لها، و كذا مكسورة القرن، كذا في الكافي ... وإن بلغ الكسر المشاش لا يجزيه، و المشاش ضرؤس العظام، مثل الركبتين، كذا في البدائع'. (٥/ ٢٩٧)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201931

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے