بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جمادى الاخرى 1441ھ- 19 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کے دانت / دیارِ غیر میں رہنے والے کا اپنے ملک میں قربانی کرنا / قربانی کا جانور فروخت کرنا


سوال

1)اگر گائے،اونٹ وغیرہ کی قربانی کی مدت سے پہلے دانت آجائیں  تو قربانی جائز ہے ؟

2)کوئی  شخص اگر حج کی قربانی پاکستان میں کرائے  اور اور یہاں پر عید کا تیسرا دن ہو جب کہ وہاں پر عید کا چوتھا دن ہو تو قربانی جائزہے ؟

3) اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا تو اس کو  بیچنا جائز ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں: اگر مشتری صاحب حیثیت ہے تو وہ بیچ سکتا ہے اور اگر مشتری صاحب حیثیت نہیں تو وہ نہیں بیچ سکتا ؟

جواب

(1)  شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ان کے لیے ایک خاص عمر کی تعیین ہے، یعنی بکرا ، بکری  وغیرہ کی ایک سال، گائے ، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پورا ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ ماہ  کا ہوجائے لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی،  اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئیں ہیں تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے، تاہم آج کل چوں کہ فساد کا غلبہ ہے ؛ اس لیے بیوپارویوں کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے  احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے  علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا ، ہاں زیادہ عمر کا آںا  ممکن ہے، یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں نکلتے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں اگر جانور کی عمر پوری ہوچکی ہوتو دانت آئیں یا نہ آئیں قربانی درست ہوجائے گی، اور  یہ معلوم نہیں ہے تو پھر  احتیاطاً دانت آنے پر ہی قربانی درست ہونے کا حکم لگایا جائے گا، ایسی صورت میں قربانی کرنے سے پہلے اس کے دانت آجائیں تو یقینی طور پر یہ معلوم ہوگیا ہے جانور کی عمر پوری ہوچکی ہے اس لیے اس کی قربانی درست ہے۔ 

الفتاوى الهندية (5/ 297)
''(وأما سنه) فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصةً إذا كان عظيماً، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري: أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر، والثني ابن سنة۔ والجذع من البقر ابن سنة، والثني منه ابن سنتين۔ والجذع من الإبل ابن أربع سنين، والثني ابن خمس۔ وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولا يمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئاً لا يجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئاً يجوز ويكون أفضل''۔

(کفایت المفتی ، 8/217، ط: دار الاشاعت)

2۔۔ حج کی قربانی سے  مراد اگر "دمِ شکر" ہے جو  حجِ قران اور تمتع کرنے والوں پر لازم ہوتا ہے تو یہ قربانی  ایامِ نحر  (10،11،12 ذوالحجہ) میں  حلق (سرمنڈوانے) یا بال کٹوانے سے پہلے منیٰ یا حدود حرم میں کرنا واجب ہے، کسی دوسری جگہ یہ قربانی نہیں کی جاسکتی۔

اور اگر آپ کی مراد اس سے عام قربانی ہے جو صاحبِ نصاب ، عاقل، بالغ، مقیم ، مسلمان پر واجب ہوتی ہے اور وہ کسی اور ملک میں قربانی کرائے  تو اس کا حکم یہ ہے:

جس آدمی پر قربانی واجب ہے اگر وہ قربانی کے لیے رقم کسی اور ملک بھیج کر کسی کو قربانی کا کہے تو  یہ درست ہے، البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ قربانی دونوں ممالک کے مشترکہ ایام میں ہو یعنی جس دن قربانی کی جائے وہ دونوں ممالک کا مشترکہ قربانی کا دن ہو، ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی، مثلاً: سعودی عرب میں پاکستان کے حساب سے ایک دن پہلے عید ہوئی  توسعودی عرب میں مقیم شخص کی قربانی پاکستان میں پہلے اور دوسرے دن کرنا صحیح ہوگا، تیسرے دن کرنا صحیح نہیں ہوگا، کیوں کہ پاکستان کا تیسرا دن سعودی عرب کے اعتبار سے قربانی کا دن نہیں ہے۔  اور اگر پاکستان میں مقیم شخص نے قربانی کی رقم سعودی عرب بھجوائی کہ اس کی قربانی وہاں کی جائے تو اس شخص کی قربانی سعودی عرب میں عید کے پہلے دن درست نہیں ہوگی، کیوں کہ یہ دن پاکستان کے حساب سے پاکستان میں رہنے والوں کی قربانی کا دن نہیں ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سعودیہ عرب میں مقیم شخص کی قربانی پاکستان میں عید کے تیسرے دن ادا نہیں ہوگی۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

http://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7-%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D8%A7

3۔۔ اگر غریب آدمی (یعنی جس پر قربانی واجب نہیں تھی اس) نے قربانی کی نیت سے جانور لیا تو وہ جانور اس کے لیے متعین ہوگیا، اب اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے، اور اگر مال دار آدمی یعنی صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کا جانور لیا  تو اس کے لیے بھی اس کو فروخت کرنا مناسب تو نہیں ہے لیکن اگر فروخت کرلیا تو بیع درست ہوجائے گی، پھر اس کے بعد دوسرا جانور اس سے کم قیمت کا نہ خریدے، اگر دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت پر لیا تو  پہلے اور دوسرے جانور کی قیمت میں جتنا فرق ہو وہ صدقہ کردینا ضروری ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 321)
''(وفقير) عطف عليه (شراها لها)؛ لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها، (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا)؛ لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها.
(قوله: لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء، وهذا ظاهر الرواية؛ لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب، وهو النذر بالتضحية عرفاً، كما في البدائع''.

وفیه أیضاً (6/ 329)
 ''ويكره أن يبدل بها غيرها أي إذا كان غنياً، نهاية، فصار المالك مستعيناً بكل من يكون أهلاً للذبح آذناً له دلالةً اهـ''.

الفتاوى الهندية (5/ 301)
'' ولو باع الأضحية جاز، خلافاً لأبي يوسف - رحمه الله تعالى -، ويشتري بقيمتها أخرى ويتصدق بفضل ما بين القيمتين''. 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201953

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے