بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1441ھ- 18 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور اجتماعی طور پر خریدنا


سوال

سات آدمیوں نے چھ چھ روپے دے کر سات بکریاں خریدیں، اور پھر انہوں نے قربانی کی، جب کہ ان بکریوں کی قیمت سب کی یک ساں نہیں تھی، کیا ان لوگوں کی قربانی ہوگئی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب اجتماعی طور پر اجتماعی رقم سے سات بکریاں خریدی گئیں جب کہ ان کی قیمتیں باہم مختلف تھیں تو سارے شرکاء تمام جانوروں میں شریک ہوگئے اور ہر ایک جانور میں ہر ایک کی ملکیت ثابت ہوگئی، تاہم جب انہوں نے وہ جانور خریدنے کے بعد باہمی رضامندی سے آپس میں تقسیم کردیے اور ہر ایک اپنے اپنے جانور کا مالک بن گیا تو گویا ہرایک نے اپنی اداکردہ قیمت کے بدلہ ہی اپنا جانور خریداہے،  اس لیے اس صورت میں سب کی قربانی جائز ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے