بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرآنی آیات والی انگوٹھی پہن کر بیت الخلا جانا


سوال

منقش انگوٹھی جس پر حروفِ  مقطعات یا آیاتِ  قرآنیہ مکتوب ہوں اوراس پرشیشہ چڑھاہواہو تو کیا اس کو پہن کر بیت الخلا جاسکتے ہیں?

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ انگوٹھی میں  قرآن کی آیات اور اللہ کا نام نظر آتا ہو،  تو اس کو پہن کر بیت الخلا میں جانا مکروہ ہے، حدیثِ  مبارک  میں آتا ہے کہ آپ ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار لیتے تھے، اس لیے اس کا نقش ’’محمد رسول اللہ‘‘  تھا۔ لہذا مذکورہ انگوٹھی اتار کر بیت الخلا  میں جائیں یا اس کو  جیب میں یا کپڑے وغیرہ میں چھپاکر جائیں۔ 

" (قوله: ويكره الدخول للخلاء ومعه شيء مكتوب الخ)؛ لما روى أبو داود والترمذي عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل الخلاء نزع خاتمه: أي؛ لأن نقشه محمد رسول الله. قال الطيبي: فيه دليل على وجوب تنحية المستنجي اسم الله تعالى واسم رسوله والقرآن اهـ وقال الأبهري: وكذا سائر الرسل اهـ وقال ابن حجر: استفيد منه أنه يندب لمريد التبرز أن ينحى كل ما عليه معظم من اسم الله تعالى أو نبي أو ملك، فإن خالف كره؛ لترك التعظيم اهـ وهو الموافق لمذهبنا كما في شرح المشكاة. قال بعض الحذاق: ومنه يعلم كراهة استعمال نحو إبريق في خلاء مكتوب عليه شيء من ذلك اهـ وطشت تغسل فيه الأيدي، ثم محل الكراهة إن لم يكن مستوراً، فإن كان في جيبه؛ فإنه حينئذٍ لا بأس به. وفي القهستاني عن المنية: الأفضل أن لا يدخل الخلاء وفي كمه مصحف إلا إذا اضطر، ونرجو أن لا يأثم بلا اضطرار اهـ وأقره الحموي. وفي الحلبي: الخاتم المكتوب فيه شيء من ذلك إذا جعل فصه إلى باطن كفه، قيل: لا يكره، والتحرز أولى". ( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 54) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے