بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قبل القبض بائع کو وکیل بنانا


سوال

اگر مشتری مبیع پر قبضہ سے پہلے بائع کو کہے کہ اب یہ میری مبیع آگے کسی کو میری طرف سے کرایہ پر دے دو تو کیا بائع کا مشتری کے حکم سے آگے کسی کو کرایہ پر دینا صحیح ہے؟ کیا اس میں قبل القبض مبیع میں تصرف کرنا نہیں پایا جا رہا؟

جواب

مشتری کے لیے خریدی ہوئی چیز پر قبضے سے پہلےہی بائع کو خریدی ہوئی چیز  آگے کرائے پر دینے کا وکیل بنانا ٹھیک نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143802200044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں