بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قبضہ سے پہلے خریدی ہوئی چیز آگے فروخت کرنا


سوال

ہم اپنے شہر کے کسی رائس مل والے سے موبائل پر بات کرکے ان سے ایک ٹرک بھرا ہوا چاول کے لیے سودا طے کرلیتے ہیں،پھر دوسرے شہر بات کرکے کچھ منافع پر فروخت کردیتے ہیں۔ اپنے شہر والے رائس مل والے کو فون کرکے کہتے ہیں کہ: ہمارے چاول کا ٹرک بھر کر فلاں شہر ،فلاں آدمی کے نام بھیج دو۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

شرعی اعتبارسے خریدی ہوئی چیز مکمل قبضہ سے پہلے  کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پربیچناجائزنہیں ہے، لہذا جب تک چاول آپ کے قبضے میں نہ آجائیں اس وقت تک صرف فون پر معاملہ کرکے اس طرح کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت نہیں کرسکتے ،ذکرکردہ طریقہ درست نہیں،البتہ اگرآپ کی طرف سے کوئی شخص رائس مل سے چاول خریدکراس پر قبضہ کرلے اورپھر آپ اسے  آگے فروخت کردیں توجائز ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143803200037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں