بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

قبرستان کی زمین کو مسجد کی توسیع میں شامل کرنا


سوال

ہمارے محلے کی مسجد کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے، مسجد کے قریب ایک پرانا قبرستان ہے جو قبرستان کے لیے وقف ہے، قبرستان کی زمین کے علاوہ اور کوئی زمین مسجد کو کشادہ کرنے کے لیےموجود نہیں، ہمارے  محلے کے لوگ اس بارے میں پوچھتے ہیں  کہ کیا اس قبرستان کو منہدم کرکے اس کی زمین میں مسجد بنانا جا ئز ہے؟ اگر مذکورہ صورت کی اجازت ہو تو اس پر عمل کردیا جاۓ۔  اگر مذکورہ صورت جائز نہ ہو تو کیا قبرستان کے اوپر پلر لگا کر اس کے اوپر لینٹر کرکے اوپر سے مسجد بنانا جائز ہے؟

جواب

اگر وقف قبرستان پرانا ہے، اور  لوگوں نے اس میں مردے دفنانا ترک کردیا ہے، اور قبریں بھی بہت پرانی ہو گئی  ہیں اور اس قبرستان کی آئندہ بھی ضرورت نہیں ہوگی تو اس کی زمین کو مسجد کی توسیع میں شامل کرنے کی گنجائش ہے۔ بصورتِ دیگر اس کی اجازت نہیں ہوگی۔

"قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمین عفت، فبنی قوم فیها مسجدًا لم أر بذٰلک بأسًا؛ لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمین لدفن موتاهم، لا یجوز لأحد أن یملکها، فإذا درست واستغنی عن الدفن فیها جاز صرفها إلی المسجد؛ لأن المسجد أیضًا وقف من أوقاف المسلمین لا یجوز تملیکه لأحد، فمعناهما واحد. وأما المقبرة الداثرة إذا بُني فیها مسجد لیصلي فیها، فلم أر فیه بأسًا؛ لأن المقابر وقف، وکذا المسجد فمعناهما واحد". (عمدة القاري شرح صحیح البخاري / باب هل تنبش قبور مشرکي الجاهلیة ویتخذ مکانها مساجد ۴؍۱۷۴ ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200168

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں