بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قادیانی، اہل تشیع اور آغاخانیوں کے ساتھ کاروباری معاملات کا حکم


سوال

کیا قادیانی، اہل تشیع اور آغاخانیوں کے ساتھ کاروبار کرسکتے ہیں؟ ان میں سے کن کے ساتھ اجازت ہے اور کن کے ساتھ نہیں؟ اور کس وجہ سے اجازت ہے اور کس وجہ سے نہیں، یہ بھی بتائیں؟

جواب

۱)قادیانی چونکہ  شرعی احکام کی رو سے کافر محارب، زندیق اورملکی آئین کی روسےغیرمسلم ہیں اس بناء پر ان کے ہاں ملازمت کرنا یا کاروباری معاملات  کرنا نا جائز اور حرام  ہے۔

۲)اہل تشیع اور آغاخانیوںکےساتھ  فی نفسہ  معاملات کرنے میں حرج نہیں البتہ اگر کوئی خارجی محظورلازم آتا ہو مثلا اپنے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو توپھر ان کے ساتھ  معاملات سے اجتناب چاہیے۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143711200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے