بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فیملی کورٹ کی خلع


سوال

فیملی کورٹ اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر بیوی کو خلع کی ڈگری جاری کردے تو خلع ہو جاۓ گی کہ نہیں؟ مہربانی فرماکر فتویٰ اسکین کرکے ایک میل کردیں!

جواب

خلع   دیگر مالی معاملات کی طرح  ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر  مالی معاملات  معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع  معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین (میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی  ہے،  اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر  بیوی  عدالت سے خلع لے لے اور عدالت اس کے  حق میں یک طرفہ خلع کی  ڈگری جاری کردے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔

’’بدائع الصنائع ‘‘  میں ہے:

’’وأما ركنه: فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلاتقع  الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول‘‘. (3 / 145، فصل في حکم الخلع، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

نوٹ: ہماری ویب سائٹ پر فتویٰ پبلش کرنے کے ساتھ مستفتی کو بھی جواب کی کاپی میل کی جاتی ہے، آپ اپنا ای میل  چیک کرلیجیے۔ نیز ویب سائٹ پر شائع شدہ فتویٰ کے پرنٹ کی سہولت بھی موجود ہے آپ اس فتوی کا پرنٹ نکال سکتے ہیں۔


فتوی نمبر : 144010200439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے