بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فروخت کرنے کی نیت سے لی گئی زمین پر زکاۃ


سوال

ہم تین شراکت دار زمین خرید کر اس پرایک گھر تعمیر اور فروخت کرکے منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں . کیا یہ معاملہ شریعتِ  مطہرہ کی  رو سے جائزہے ؟ زمین خرید نے گھر بنوانے پر سال گزرا تو اس میں زکاۃ ہوگی یانہیں؟  اگر ہے تو زکاۃ راس المال سے نکالنا پڑے گی یا دونوں [راس المال مع منافہ] سے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  گھر تعمیر کرکے منافع پر فروخت کرنے کی نیت سے مشترکہ طور پر زمین خریدنا جائز ہے، بشرطیکہ عقدِ شرکت کی دیگر شرائط کا لحاظ رکھا جائے۔ نیز فروخت کی غرض سے زمین کی خریداری پھر اس تعمیرات کرنے کی صورت میں سال گزرنے پر اس کی کرنٹ ویلیو معلوم کرکے کل کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا تمام شرکاء پر لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201564

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے