بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

غیر مملوکہ رقم میں صدقہ کی نیت کرنا


سوال

میرے والد صاحب کا ایک پلاٹ ہے جس پر میں نے اپنے طور پر یہ نیت کی تھی کہ اگر یہ اچھی قیمت پر بک جائے تو اس سے ملنے والی رقم سے ایک اچھی رقم صدقہ کروں گا، پلاٹ ابھی تک فروخت نہیں ہوا، مسئلہ اب یہ ہے کہ اگر والد صاحب صدقہ کے لیے ایک بڑی رقم جو تقریباً دو لاکھ بنتی ہے دینے کے  لیے راضی نہ ہوں تو یہ رقم میں اپنے مال سےتھوڑی تھوڑی کر کے صدقہ کر سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ چوں کہ آپ کی ملکیت نہیں ہے،  اس لیے اس کی فروختگی کی رقم بھی آپ کی ملکیت نہیں؛ لہذا آپ کا اس میں سے کچھ رقم صدقہ کرنے کی نیت کا اعتبار نہیں،  نیز صرف دل میں صدقہ کی نیت سے (جب تک زبان سے الفاظ ادا نہ کیے ہوں) نذر (منت) لازم نہیں ہوتی،  تاہم آپ اپنی مملوکہ رقم میں سے نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144008202004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے