بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر مقلد بھائی اپنی آمدنی میں سے رقم دے تو اس کے استعمال کا حکم


سوال

 میرا بھائی غیر مقلد ہے، وہ یورپ میں مقیم ہے ،  میں حنفی المسلک ہوں،  بھائی کے  ساتھ میری بہت ادھر ادھر نامناسب گفتگو ہوتی رہتی ہے، اس کو میں نے  سمجھانا چاہا، بالآخر میں نے کہہ دیا : قیامت کے دن اللہ فیصلہ کرے گا کہ کون حق راہ پر ہے !

کیا بھائی کی آمدنی سے ہمیں خرچ کرنا جائز ہے، جب کہ وہ اپنی مرضی سے روپیہ ہمارے خرچ کے لیے ارسا ل کرتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ کے بھائی کی آمدنی حلال ہے تو اس کا استعمال جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

تقلید کیوں ضروری ہے؟ اور عدمِ تقلید کی صورت میں کیا نقصان ہے؟ اور ائمہ اربعہ میں سے ہی کسی ایک کی تقلید کیوں لازم ہے؟ وغیرہ وغیرہ ان تمام موضوعات کی تفصیل کے لیے :

’’اجتہاد و تقلید کا آخری فیصلہ‘‘ (افادات حضرت تھانوی رحمہ اللہ ترتیب: مولانا زید مظاہری صاحب) اور ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ ( جلد اول، ص/ ۲۷تا ۳۲ از مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ ) کا مطالعہ مفید رہے گا۔

نامناسب گفتگو اور بحث ومباحثہ کا مجادلانہ انداز دین میں پسندیدہ نہیں ہے، البتہ علم و حکمت کی روشنی میں بھائی کو پیار محبت سے سمجھاتے رہیے،اور متعلقہ مسئلہ کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاوی ملاحظہ فرمائیے:

تقلید کی ضرورت اور اہمیت

تقلید کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200501

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے