بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم لڑکی کو نماز سکھانا


سوال

کیا ہندو  لڑکی کو  نماز سکھانا جائز ہے؟

جواب

نماز  یا کسی بھی عبادت کے قبول ہونے کے لیے ایمان بنیادی شرط ہے؛  اس لیے کافر کے  لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی نیک کام سے پہلے ایمان قبول کر لے۔  لیکن اگر کوئی کافر ایمان قبول کرنے سے پہلے نماز سیکھنا چاہتا ہے تو اس کو نماز سکھانے میں حرج نہیں، خصوصاً جب کہ اس   کو نماز سکھانے سے اس کے  ایمان کی امید بھی  ہو، لیکن اگر نماز سکھانے والا مرد ہو اور نماز سیکھنے والی غیر مسلم لڑکی ہو تو اس صورت میں چوں کہ غیر محرم عورت سے اختلاط ہو گا؛ اس لیے بے پردہ اختلاط اور ضرورت سے زائد  رابطہ نا جائز ہو گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200123

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے