بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

غیر شادی شدہ معذور لڑکے کا والدین کے ہوتے ہوئے صدقہ و خیرات لینے کا حکم


سوال

 ایک معذور لڑکا غیر شادی شدہ ماں باپ کے ہوتے ہوے صدقہ خیرات لے سکتا ہے؟

جواب

مذکورہ معذور لڑکا اگر  بالغ ہے اور صاحبِ نصاب نہیں ہے تو اس کے لیے ہر طرح کا صدقہ و خیرات لینا جائز ہے، البتہ اگر والدین اس کی تمام ضروریات پوری کردیتے ہوں تو اس صورت میں اس کے  لیے صدقہ و خیرات لینا بہتر نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ ابھی تک بالغ نہ ہوا ہو تو دیکھا جائے گا کہ اس کے والد صاحبِ  نصاب ہیں یا نہیں؟  اگر اس کے والد صاحبِ  نصاب نہیں ہیں تو بھی وہ معذور لڑکا ہر طرح کا صدقہ و خیرات لے سکتا ہے، لیکن اگر اس نابالغ معذور لڑکے کے والد صاحبِ  نصاب ہوں اور وہ اس کا خرچہ بھی دیتے ہوں تو پھر اس کے  لیے صدقاتِ  واجبہ  (زکاۃ، صدقہ فطر، کفارہ، فدیہ) لینے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200955

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے