بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر حاضر اور ناکام طلبہ سے مالی جرمانہ لینا


سوال

میں اسکول میں ٹیچر ہوں، عام طور پر اسکول میں رواج ہے کہ :غیر حاضر یا فیل ہونے والے بچوں سے پیسوں کی صورت میں جرمانہ لیا جاتا ہے، کیا شرعاً یہ درست ہے؟

دوسری بات یہ ہے کہ: اگر یہ ناجائز ہے تو جو پیسے ہم نے لیے ہیں ان کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے کہ کن بچوں سے لیے  ہیں، تو کیا ہم ا ن پیسوں کو اسکول کے اجتماعی کام میں لگا سکتے ہیں؟

جواب

غیر حاضر طلباء یا ناکام ہوجانے والے طلباٗء  سے  جرمانہ وصول کرنا  ناجائز ہے، جن سے جرمانے کی رقم وصول کی گئی ہے انہی کو مذکورہ رقم واپس کرنا لازم ہے، البتہ اگر بالغ طالب علم یا نابالغ کا سرپرست بخوشی وہ رقم اسکول میں لگانے کی اجازت دے دے تو اسکول  میں یہ رقم لگائی جاسکتی ہے ، بصورت دیگر اسکول کے کاموں میں اسے لگانے کی اجازت نہیں ، بلکہ واپس کرنا لازم ہوگا۔اگر کسی طریقے سے بھی اصل حق دار معلوم نہ ہو تو پھر یہ رقم اسکول میں لگانےکے بجائے صدقہ کردی جائے۔

  • ولا یکون التعزیر بأخذ المال من الجانی فی المذهب۔ (مجمع الأنہر ، کتاب الحدود / باب التعزیر ۱؍۶۰۹ بیروت)
  • وفی شرح الآثار: التعزیر بأخذ المال کانت فی ابتداء الاسلام ثم نسخ۔ (البحر الرائق /باب التعزیر41/5 )
  • والحاصل أن المذہب عدم التعزیر بأخذ المال۔ (شامی / باب التعزیر، مطلب فی التعزیر بأخذ المال،ج: ۴، ص: ۶۱)
  • لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی۔ (شامی / باب التعزیر، مطلب فی التعزیر بأخذ المال،ج: ۴، ص: ۶۱) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143901200040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے