بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیبت کرنے پر والدہ کو سختی سے ٹوکنے کا حکم


سوال

میری والدہ ماشاء اللہ نمازی ہیں, لیکن ان میں ایک بری عادت ہے جس سے میں بہت پریشان ہوں, والدہ کو روک بھی نہیں سکتا کہ بے ادبی ہوتی ہے, میں یا میرا کوئی بھی بھائی یا گھر  یا خاندان کا کوئی بھی فرد جب میری والدہ کے پاس بیٹھتا ہے تو میری والدہ دوسروں کی برائی کرنا شروع کر دیتی ہیں, جو کہ غیبت کے زمرے میں آتا ہے, اور اولاد میں سے کوئی ٹوک دے کہ ایسی باتیں نہ کیا کریں، یہ گناہ ہے تو ناراض ہو جاتی ہیں, یا ہم پاس سے اٹھ جائیں کہ غیبت نہیں سننا چاہتے، تب بھی ناراض ہو جاتی ہیں کہ میری بات نہیں سنتے. اور اگر والد صاحب منع کریں تو ان کی برائیاں شروع کر دیتی ہیں. جس کی وجہ سے بعض دفعہ پھر میں ذرا اونچے لہجے میں یا سختی کے ساتھ ان سے بحث شروع کر دیتا ہوں, جو کہ مجھے پتا ہے کہ اچھی بات نہیں ہے, پر میں کیا کروں؟  جواب اور حل عنایت فرمائیں!

جواب

غیبت کرنے کی طرح غیبت سننا بھی گناہ ہے، لہٰذا آپ کو چاہیے کہ جب آپ کی والدہ کسی کی غیبت شروع کریں تو بجائے سختی اور بے ادبی سے ان کو ٹوکنے کے حکمت، بصیرت اور ادب کے ساتھ ان کو غیبت سے روکنے کی کوشش کریں، مثلاً جو بات چل رہی ہو غیر محسوس طریقے سے اس بات کا موضوع بدل دیں؛ تاکہ والدہ کی بے ادبی بھی لازم نہ آئے اور غیبت سننے سے بھی بچ جائیں،لیکن اگر کبھی غیبت کو روکنے کی قدرت نہ ہو تو پھر کسی کام کے بہانے سے اس مجلس سے اٹھ جانا چاہیے جس میں غیبت ہو رہی ہو، بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ والدہ کے ساتھ اونچے لہجے میں یا سختی اور بے ادبی کے ساتھ بات کرنا یا بحث  کرنا جس سے ان کی دل آزاری ہو بالکل بھی درست نہیں ہے، اور غیبت سننے سے پرہیز کرنا بھی بہت ضروری ہے، اس لیے ایسا طرزِ عمل اپنانا چاہیے کہ والدہ کی دل آزاری بھی نہ ہو اور غیبت کے گناہ سے بھی حفاظت ہوجائے۔

قرآنِ مجید میں ہے:

{وَاِنْ جٰهَدٰکَ عَلٰى اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا}[لقمان: 15]

ترجمہ: اور اگر وہ دونوں (والدین) تجھے مجبور کریں اس بات پر کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے اسے جس کا تیرے پاس علم نہیں، تو ان کی اطاعت مت کر، البتہ دنیا میں ان دونوں کے ساتھ دستور کے مطابق اچھا سلوک رکھ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نافرمانی کے کاموں میں والدین کی اطاعت کی تو ہرگز اجازت نہیں ہے، لیکن دنیاوی نظم میں ان کے ساتھ سلوک اچھا رکھنا بھی ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے