بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غصہ میں خود کو کافر بول دینے کا حکم


سوال

غصہ میں خود کو کافر بول دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی غصہ میں  صراحۃً اپنے  اختیار سے آپ کو کافر بول دے تو وہ اپنے قول کی وجہ سے کافر ہو جائے گا، اس کے لیے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔

الفتاوى الهندية (2/ 283):
"رجل كفر بلسانه طائعاً، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافراً، ولايكون عند الله مؤمناً، كذا في فتاوى قاضي خان".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200510

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے