بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غصب کردہ مال کی واپسی کا طریقہ


سوال

میں اپنے ایک دوست کے حوالے سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ جو آج سے پندرہ سال پہلے (2001) میں ، ایک گورنمنٹ پراجیکٹ میں آفس کلرک کے طور پر اکاوننٹنٹ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ملازمین کی سروس بکس کی سالانہ آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ دو فیلڈ ورکرز کو کسی وجہ سے ایک ایک سالانہ انکریمنٹس کم لگتی چلی آ رہی ہیں۔ اکاونٹنٹ نے ان دونوں فیلڈ ورکرز کو ایک ایک سالانہ انکریمنٹس کی ریکارڈ میں درستگی کر کے تصحیح کر دی۔ اور پچھلے چند سال کے بقایا واجبات جو 8000 روپے بنتے تھے، دو بندوں یعنی میرے دوست اور خود کے درمیان تقسیم کر دئیے۔۔۔ اب میرا دوست چودہ سال سے کسی اور محکمے میں کام کر رہا ہے ، اور پچھتا رہا ہے کہ اس نے کسی کا حق کیوں کھایا۔ میرا سوال یہ ہے کہ وہ مبلغ رقم 4000روپے کیسے ادا کرے؟، کیونکہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اب اُس وقت کے پراجیکٹ ملازمین کے نام بھی بھول گئے ہیں۔

جواب

چوری یاغصب شدہ مال یاکسی بھی ناجائزطریقہ سے کسی شخص سے حاصل کردہ مال کواصل مالک تک پہنچانالازم ہے۔اگراس مال کااصل مالک  نہ ملے تواگر اس شخص کے ورثاء معلوم ہوں توان تک پہنچادیاجائے۔اگرنہ مالک ملے اورنہ ہی اس کے ورثاء معلوم ہوں تواس صورت میں وہ رقم اصل مالک کی نیت سے  صدقہ کردی جائے ۔ملاحظہ کیجیے:

[آپ کے مسائل اور ان کاحل 5/215،ط:مکتبہ لدھیانوی]فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143609200005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے