بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1441ھ- 04 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

غسل کے دوران کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھولنے اور بعد میں یاد آنے کا حکم


سوال

فرض غسل کرلینے کے بعد کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا کب تک وقت ہوتا ہے؟  ایک بندہ غسل خانے میں موجود ہے اور اس نے بدن کو تولیہ سے خشک کرلیا ہے،  پھر اسے یاد آیا کہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا ہے تو ایسی صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

غسل شروع کرنے سے پہلے وضو کرنا سنت ہے، اسی وضو میں کلی بھی کرلینی چاہیے اور ناک میں پانی بھی ڈال لینا چاہیے، لیکن اگر غسل شروع کرنے سے پہلے یا غسل کے دوران کلی نہیں کی یا ناک میں پانی نہیں ڈالا تو غسل کے بعد جب بھی یاد آجائے اس وقت کلی کرلینی چاہیے اور ناک میں پانی ڈال لینا چاہیے چاہے جتنی بھی دیر گزر چکی ہو۔

  غسل کرلینے کے بعد جس وقت بھی یاد آئے کہ کلی نہیں کی یا ناک میں پانی نہیں ڈالا تو  چاہے جتنی دیر گزر چکی ہو تب بھی صرف کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہوگا، مکمل غسل دوبارہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ البتہ اگر یہ غسل فرض تھا اور اس میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا تھا، اور کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے سے پہلے اگر کوئی نماز پڑھ لی تو کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے کے بعد اس نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں