بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

غسل کے بعد وضو


سوال

 نا پاکی کی حالت میں صبح اٹھا، پھر غسل کیا . استنجا کیا، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر غرارے کیے، پاؤں دھوے . پھر پورے جسم پے پانی ڈالا، یہ سب کچھ تین تین دفعہ کیا. کچھ دیر بعد اذان ہوئی . کیا اس طرح میرا وضو ہو گیا تھا یا نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا؟

جواب

اگر اس طرح پورے جسم تک پانی چلا گیا تو اسی میں وضو بھی ہوگیا، دوبارہ وضو کی ضرورت نہیں ، نماز ہو جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 151):
’’(قوله: غسل كل فمه إلخ) عبر عن المضمضة والاستنشاق بالغسل؛ لإفادة الاستيعاب، أو للاختصار، كما قدمه في الوضوء، ومر عليه الكلام، ولكن على الأول لاحاجة إلى زيادة كل.
(قوله: ويكفي الشرب عباً) أي لا مصاً، فتح وهو بالعين المهملة، والمراد به هنا الشرب بجميع الفم، وهذا هو المراد بما في الخلاصة، إن شرب على غير وجه السنة يخرج عن الجنابة وإلا فلا، وبما قيل إن كان جاهلاً جاز‘‘.
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں