بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غریب آدمی کا پرائز بونڈ خرید کر اسے استعمال کرنا


سوال

ایک شخص گھر خریدنا چاہتا ہے ۔اس کا پرائز بانڈ نکلا ہے،  کیا وہ اس طرح کرسکتا ہے کہ کسی سے قرض لے کر گھر خرید لے اور پرائز بانڈ کی رقم گھر کی مد میں دے دے۔ واضح رہے کہ وہ شخص غریب ہے، کیا غریب کے لیے گنجائش ہوگی؟

جواب

پرائز بونڈ  کی انعامی رقم سود کی ہے، اس لیے اولاً تو اس شخص کو پرائز بانڈ خریدنا ہی نہیں چاہیے تھا، غفلت و لاپرواہی میں خریدلیا اور انعام نکل آیا تو حرام رقم کا اصل حکم یہ ہے کہ اصل مالک کو لوٹانا لازم ہے، اس لیے مذکورہ شخص یہ رقم حکومت کو واپس کردے اور لوٹانے کی صورت نہ ہو تو  کسی  اورمستحقِ زکاۃ  کو بلا نیتِ ثواب دےدے .اس کے لیے خود استعمال کرنا جائز نہٰیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200350

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے