بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عیب کی غلط فہمی کی صورت میں مشتری کے لیے مبیع اور رقم دونوں لینے کا حکم


سوال

اگر آن لائن خریداری سے کمپنی کی طرف سے بھیجی جانے والی چیز اگر آرڈر کے خلاف ہو رنگ میں اور کوالٹی میں بھی اور خرابی کا بھی شک ہونے پر چیز اپنے پاس ہی رکھی کہ کمپنی والوں سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کر کے بندہ پیسے لے لے ، کمپنی والوں کی رضامندی سے چیز پاس ہی رکھ لے، جب پیسے واپس ہوں تو پتا چلے کہ اور کوئی خرابی نہیں تھی، چیز میں صرف رنگ کا فرق تھا تو ایسی صورت میں بعد میں ایسے پیسے بندہ استعمال کر سکتا ہے؟ اور چیز بھی استعمال میں لا سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

اس صورت میں آرڈر کرنے والے نے چوں کہ اصل چیز کو دیکھا نہیں ہوتا تو اس کو ڈیلوری کے بعد خیارِ رؤیت حاصل رہتا ہے، اگر پسند نہ آئے تو واپس کرسکتا ہے۔

لیکن اس  عیب کی غلط فہمی کی بنیاد پر کمپنی اگر چیز اور پیسے دونوں ہی مشتری کو دےدے اور مشتری کو معلوم ہو کہ یہ عیب نہیں ہے تو مشتری پر لازم ہے کہ وہ یہ چیز اپنے پاس رکھے اور رقم واپس لوٹا دے۔

الفتاوی الهندیة،(ج؍۴،ص؍۴۳):

"وإذا اشتری مصحفاً علی أنه جامع فإذا فیه آیتان ساقطتان أو آیة ساقطة، قال: هذا عیب یرد به.

وإذا أحدث عند المشتری عیبٌ بآفة سماویة أو غیرها، ثم اطلع علی عیب کان عند البائع فله أن یرجع بنقصان العیب". اھ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200379

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے