بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے وضو میں سر کے مسح کا حکم


سوال

کیا عورت کو وضو میں سر کا مسح کرنا چاہیے؟

جواب

وضو میں سر کے مسح  کی  فرضیت مرد وعورت دونوں کے لیے یک ساں  ہے؛ لہذا عورت کے لیے بھی وضو میں سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ یعنی چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے، جب کہ پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہے۔ نیز مسح صرف اُن ہی بالوں پر کرنے کا حکم ہے جو سر پر ہوں، وہ بال جو گدی سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں خواہ مرد کے ہوں یا عورت کے ان پر مسح کرنے کا حکم نہیں اور صرف ان بالوں پر مسح کرنے سے مسح کی فرضیت بھی ساقط نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے