بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کا اذان دینا


سوال

اگر کسی جگہ صرف عورتیں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو کیا  ان کے لیے بھی  اذان دینا ضروری ہے؟  میرا پوچھنے کا مقصد ے  ہے کہ اذان اور اقامت عورتوں  کے لیے بھی ہیں یا نہیں؟ 

جواب

عورتوں کے لیے اذان  یا اقامت کہنا جائز نہیں ہے، خواہ  وہ کہیں مقیم ہوں یا سفر میں ہوں۔ اذان اور اقامت ایسے اعمال ہیں جن کی انجام دہی مردوں کے ساتھ خاص ہے۔  مردوں کی کہی ہوئی اذان ان کے لیے بھی کافی ہے۔ اگرنماز کے لیے عورت نے اذان دی تو اس کا اعادہ کیا جائےگا۔ عورت نماز سے پہلے بھی اقامت نہیں کہے گی۔  

الموسوعة الفقهية - ج 22:

"د - اختصاص الأذان بالرجال دون النساء :

٥ - من الشروط الواجبة في المؤذن أن يكون رجلاً".

"ویکره أذان … امرأة". (الدر المختار ۱/۳۶۴ باب الأذان)

"وکذا یعاد أذان امرأة". (الدر المختار ۱/۳۶۵ایضاً) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201434

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے