بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے ٹوٹے بالوں کو فروخت کرنا


سوال

 آج کل عورتوں کے بال جو کنگھی میں آتے ہیں، انہیں بیچا جاتا ہے، اس کا  کیا حکم ہے؟

جواب

انسانی بالوں کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے عورتوں کا کنگھی میں ٹوٹے ہوئے بالوں کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ  بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں،  نیز اجنبی مرد کے لیے عورت کے ٹوٹے ہوئے بالوں کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے، اس لیے سر میں کنگھی کرتے ہوئے عورتوں کے جو بال گر جائیں انہیں کسی جگہ دفنا دینا  چاہیے، اگر دفنانا مشکل ہو تو کسی کپڑے وغیرہ میں ڈال کر ایسی جگہ ڈال دیے جائیں   جہاں کسی اجنبی کی نظر نہ پڑے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 58):

"(وشعر الإنسان)؛ لكرامة الآدمي ولو كافرًا ذكره المصنف وغيره في بحث شعر الخنزير.

(قوله: وشعر الإنسان) ولايجوز الانتفاع به؛ لحديث: «لعن الله الواصلة والمستوصلة». وإنما يرخص فيما يتخذ من الوبر فيزيد في قرون النساء وذوائبهن، هداية.
[فرع] لو أخذ شعر النبي صلى الله عليه وسلم ممن عنده وأعطاه هديةً عظيمةً لا على وجه البيع فلا بأس به، سائحاني عن الفتاوى الهندية.
مطلب: الآدمي مكرم شرعًا ولو كافرًا

(قوله: ذكره المصنف) حيث قال: والآدمي مكرم شرعًا وإن كان كافرًا؛ فإيراد العقد عليه وابتذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له. اهـ أي وهو غير جائز وبعضه في حكمه، وصرح في فتح القدير ببطلانه ط".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202201398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں