بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا بال رنگوانا


سوال

کیا عورتیں خصوصاً چھوٹی عمر کی خواتین بالوں میں رنگ لگاسکتی ہیں فیشن کے طور پر؟  ایک بار کروانے سے کافی عرصہ تک رہتا ہے، اس کی وجہ سے نماز اور وضو ہوجائے گا؟

جواب

خواتین کے لیے شوہر کی خاطر زینت اختیا کرناجائز اور مطلوب ہے ،اس نیت سے بالوں کو  رنگا بھی جاسکتا ہے خواہ وہ رنگ کافی عرصہ تک باقی رہے، البتہ خالص سیاہ رنگ استعمال کرنا جائز نہیں ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس منع کیا گیا ہے۔

باقی اس نیت سے بال رنگنا کہ اس طرز کا آج کل فیشن ہے یا اس غرض سے کہ نا محرم مرد دیکھیں یا دیگرخواتین کے سامنے فخر کیا  جائے، جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
مذکورہ بالا صورتوں میں رنگ چڑھ جانے کے بعد وضو تو ہوجائے گا، اس لیے کہ نفسِ رنگ  پانی کے پہنچنے سے مانع نہیں ہوتا۔اور نماز بھی ہوجائے گی۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ رنگ خریدتے وقت  اجزاءِ ترکیبی کی تحقیق کرلی جائے، جس رنگ  میں کچھ نجس اجزاء شامل نہیں ہوں وہی خریدنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200957

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے